1871ء کا موسم بہار تھا ۔۔ ایک نوجوان طالب علم ڈاکٹری کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس فکر میں مبتلا تھا کہ اپنے پیشے میں کیسے کامیاب ہو اور کیسے گزر اوقات کی صورت پیدا ہو۔ ان حالات میں اس نے ایک کتاب میں اٹھائیس الفاظ پڑھے اور ان الفاظ نے اُس کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ ان اٹھائیں لفظوں نے اس نو عمر طالب علم کو اپنے زمانے کا سب سے بڑا ڈاکٹر بنا دیا۔ اُس نے ڈاکٹری کے شعبے میں کئی کارہائے نمایاں سر انجام دیئے اور کئی اعزازات حاصل کئے ۔ اُس کی وفات کے بعد اُس کی زندگی کے بارے میں دو جلدوں پر مشتمل جو کتاب شائع کی گئی اُس کے صفحات کی تعداد چودہ سوچھیاسٹھ تھی۔
یہ تھے سر ولیم آسلر اور جن اٹھائیں لفظوں نے ان کی زندگی بدل دی دو انگلستان کے مشہور مصنف تھامس کارلائل کے الفاظ تھے۔ ان الفاظ کی مدد سے سرولیم آسلر نے اپنی۔ زندگی کو غموں اور پریشانیوں سے محفوظ رکھا۔ وہ معجزانہ الفاظ یہ تھے۔ "ہمیں چاہئے کہ جو چیز ڈور سے دُھندلی نظر آئے اُس کو نہ دیکھیں بلکہ اُس چیز کو دیکھیں جو آنکھوں کے سامنےصاف نظر آ رہی ہو۔
اس واقعہ کے بیالیس سال بعد سرولیم آسلر نے ایک تقریب میں طلباء کو خطاب کرتے ہوئے اس بات کو غلط قرار دیا کہ اُن کے دماغ میں کوئی خاص خوبی ہے اور کہا کہ میرے دوست جانتے ہیں کہ میں معمولی دماغ کا مالک ہوں۔ میری کامیابی کا راز صرف یہ ہے کہ میں آج کی دنیا میں جیتا ہوں۔ آپ بھی گزرے ہوئے دنوں کو بھول جائیں۔ ماضی کو باہر پھینک کر دروازہ بند کر لیں۔ ماضی کی طرح مستقبل کو بھی دروازے سے باہر دھکیل دیں ۔ آنے والے کل کا آج کوئی وجود نہیں۔ آپ کی تمام جدو جہد کا مرکز آج کا دن ہونا چاہئے۔
جو شخص کل کی فکر کرتا ہے وہ اپنی توانائی بر باد کرتا ہے اور اپنے ذہن کوطرح طرح کی اذیتوں سے دو چار کرتا ہے کیا ڈاکٹر آسلز نے یہ کہا ہے کہ ہم کل کی بالکل فکر نہ کریں نہیں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا۔ اُن کا مطلب ہے کہ کل کی تیاری کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم آج کے کاموں کو پوری محنت اور توجہ سے سر انجام دیں ۔ مستقبل کے لئے تیار ہونے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔
سرولیم آسٹر نے طلباء کو ہدایت کی کہ وہ دن کا آغاز حضرت عیسی کی اس دُعا سےکریں اے خُدا آج ہم کو روزی دے ۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس دُعا میں صرف آج کے لئے روزی مانگی گئی ہے۔ شکایت نہیں کی گئی کہ کلی باسی رونی لی تھی اور اس فکر کا بھی اظہار نہیں کیا گیا کہ کل روٹی ملے گی یا نہیں۔ حضرت عیسی کی اس تعلیم کو کہ آنے والے کل کی فکر نہ کرو لوگ عموماً بھول جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نہیں کل کی فکر ضرور کرنی چاہئے ۔ ہمیں بیمہ کے ذریعے اپنے بال بچوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہئے اور آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لئے پہلے سے سوچنااور انتظام کرنا چاہئے۔ یہ سب درست ہے۔ ایسا ہی ہونا چاہئے ۔
کل کا خیال ضرور رکھنا چاہیے۔ مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے تجویزیں سوچنی چاہئیں اور کام شروع کرنا چاہئے۔ لیکن طبیعت کو کل کے اندیشے میں نمکین اور افسردہ نہیں کرنا چاہئے اور آج کی فکروں کو آج تک ہی محدود رکھنا چاہئے ۔ امریکی امیر البحر ارنسٹ بے کنگ نے ایک مرتبہ کہنا کہ اگر بہترین انتظامات کے باوجود جہاز ڈوب چکا ہے تو میں نکال نہیں سکتا اور اگر ڈوب رہا ہے تو میں بچا نہیں سکتا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ میں گزرے ہوئے کل پر افسوس کرنے کی بجائے آنے والے کل کو مفید طریقے سے استعمال کردن۔ اگر میں گزرے ہوئے لمحوں کے بارے میں سوچتا رہوں تو چند دنوں میں مر جاؤں۔ اچھے غور و فکر سے کام سنورتا ہے اور بُرے غور وفکر سے عموما بے چینی پیدا ہوتی ہے جس سے صحبت پر برا اثر پڑتا ہے۔
ہم جب صبح کو کام شروع کرتے ہیں تو سینکڑوں کام ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان سب کاموں کو ایک ساتھ کرنا چاہیں تو یقینا پاگل ہو جائیں ۔ آپ شیشے کی بوتل میں کنکریاں ڈالنا چاہیں تو ایک ایک کر کے ڈال سکتے ہیں لیکن اگر آپ تمام کنکریاں ایک ہی وقت میں ڈالتا چاہیں گے تو بوتل ضرور ٹوٹ جائے گی۔ یہی اصول روز مرہ زندگی کے بارے میں بھی
اختیار کرنا چاہئے یعنی ایک وقت میں ایک کام۔ مزای کے شیلڈز کو جن کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا طرح طرح کی پریشانیاں لاحق تھیں ۔ انہیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ اپنے لاتعداد مسائل کو کیسے جل کریں گی۔ موٹر کی اقساط کی ادائیگی کے لئے رقم کہاں سے لائیں گی۔ رہائش کے کمرے کا کرایہ کیسے ادا ہو گا اور روٹی کا انتظام کیسے ہو گا۔ اُن کی صحت روز بروز گر رہی تھی۔ انہیں نجات کا صرف ایک ہی راستہ دکھائی دیتا تھا اور وہ تھا۔ خود کشی” وہ کہتی ہیں کہ ان حالات میں ایک دن ایک مضمون میری نظر سے گزرا۔
اسے پڑھتے ہی مجھ میں زندہ رہنے کی ہمت آگئی۔ اس مضمونمیں ایک موثر جملہ تھا جو مجھے کبھی نہیں بھول سکتا۔ وہ جملہ یہ تھا عقل مند کے لئے ہر روز نئی زندگی ہے”۔ اس جملے کو پڑھنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایک ایک دن کر کے زندگی گزارنا زیادہ مشکل نہیں۔ میں نے گزرے ہوئے کل اور آنے والے کل کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا۔ میں روزانہ صبح کو اپنے آپ سے کہتی کہ آج نئی زندگی ہے۔ مز شیلڈز کہتی ہیں کہ اب میں اچھی خاصی کامیاب ہوں مجھے یقین ہے کہ اب کبھی خوف زدہ نہ ہوں گی چاہے حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں۔
حضرت عیسی کی پیدائش سے تیس سال پہلے مشہور شاعر ہوریں نے کہا تھا کہ انسانی زندگی کا یہ پہلو نہایت افسوس ناک ہے کہ ہم سب اپنی موجودہ زندگی کو اہمیت نہیں دیتے۔ ہم سب کو دور گلاب کے پھول دکھائی دیتے ہیں لیکن جو گلاب ہماری کھڑکی کےباہر کھلے ہوئے ہیں وہ نظر نہیں آتے”۔
سٹیفن لی کاک لکھتا ہے کہ ہماری زندگی عجیب و غریب ہے۔ بچہ سوچتا ہے کہ جب میں بڑا ہوں گا تو یہ کروں گا۔ بڑا ہو کر لڑ کا سوچتا ہے کہ جب میں جوان ہوں گا تو یوں کروں گا اور جب جوان ہوتا ہے تو سوچتا ہے کہ جب میں شادی کروں گا تو یہ ہو گا اور وہ. ہو گا اور جب شادی ہو جاتی ہے تو سوچتا ہے کہ میں بوڑھا ہو کر آرام کروں گا اور جب آرام کا وقت آتا ہے تو جسمانی اعضاء جواب دے چکے ہوتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راستے میں ہم سب کچھ دیکھنا بھول گئے اور راستہ ختم ہو گیا۔ جب زندگی گزر چکی ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے.
کہ ہر روز بلکہ ہر گھنٹے کے ایک ایک منٹ میں زندگی بسر کرنے کوزندگی کہتے ہیں۔ مرحوم ایڈورڈالی ایونس غموں اور پریشانیوں کی وجہ سے قریب قریب ہلاک ہو چکے تھے جب ان کو معلوم ہوا کہ ہر گھنٹے کے ایک ایک منٹ میں زندگی بسر کرنے کو زندگی کہتے ہیں۔ ایونس نے غربت میں پرورش پائی۔ بڑی محنت کرنے کے بعد انہوں نے ترقی کی لیکنبعض ایسے واقعات رونما ہوئے کہ انہیں پے در پے نقصان اٹھانا پڑا اور وہ بری طرح مقروض ہو گئے۔ ان پریشانیوں نے اُن کی صحت برباد کر دی اور وہ بستر پر پڑ گئے۔ حالت اتنی بگڑی کہ ڈاکٹر نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ دو ہفتے سے زیادہ زندہ نہیں رہیں گے۔ مسٹر یونس کہتے ہیں کہ میں نے وصیت لکھی اور موت کا انتظار کرنے لگا۔
میں نے سوچا کہ اب زندگی کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ لہذا غم کرنے اور پریشان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کئی ہفتوں سے مجھے دو گھنٹے بھی نیند نہ آئی تھی۔ لیکن اب جب کہ تمام مسائل ختم ہو چکے تھے تو میں بچوں کی طرح گہری نیند سونے لگا۔ گہری نیند سونے سے میری تھکن دور ہونے لگی ، بھوک بڑھ گئی اور وزن میں اضافہ ہونے لگا۔ رفتہ رفتہ میری صحت حیرت انگیز طور پر ٹھیک ہونے لگی۔ چھ ہفتوں میں میں دوبارہ کام کرنے کے قابل ہو گیا اور میں نے کام شروع کر دیا۔ اب زندگی کے ہر معرکے کے لئے تیار تھا۔ میرے لئے کوئی غم نہ تھا۔ میں نے یہ سبق سیکھ لیا تھا کہ جو گزر گیا سو گزر گیا۔ چنانچہ نہ تو ماضی کا غم کرنا چاہئے اور نہ ہی مستقبل کا اندیشہ دل میں رکھنا چاہئے ۔ میں نے اپنی پوری صلاحیت اپنے کام کے لئے وقف کر دی۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ کئی برسوں بعد جب ایڈورڈ ایونٹس کا انتقال ہوا تو اُن کا شمارامریکہ کے مشہور تاجروں میں ہوتا تھا۔
اگر ایڈ ور ڈایونس کو یہ معلوم نہ ہو جاتا کہ غم اور پریشانی مخفض حماقت ہے اور وہ آج کی دنیا میں رہنا نہ سیکھتے تو کبھی کامیابی حاصل نہ کر سکتے ۔ کل کے بارے میں کوئی بات طے نہیں۔ کل کسی کو نظر نہیں آ سکتا اور نہ کل کے بارے میں کوئی پیشگوئی کی جا سکتی ہے۔
لہذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ فکر اور پر یشانی آپ کے قریب نہ آئیں تو آپ سرولیم آسکر کے طریق کار پر عمل کریں۔ یعنی ماضی اور مستقبل کو دروازے سے باہر نکال دیں اور آج کی دنیا میں رہیں۔
